اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ پیغمبر اعظم(ع) فیسٹیول کے اعلی مشیران کی پہلی نشست کل تہران میں منعقد ہوئی۔یہ نشست جو اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کے اعلی عہدہ داروں، اہلبیت(ع) ثقافتی ہنری فیسٹیول کے اعلی عہدہ داروں اور ملک کے بعض فنکاروں اور فلم سازوں کی موجودگی میں منعقد ہوئی اس میں ’’جائزہ بزرگ پیامبر اعظم(ص)‘‘ کے مختلف گوشوں کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔اس نشست میں تلاوت قرآن کے بعد پیغمبر اعظم(ص) فیسٹیول کے سیکریٹری حجۃ الاسلام و المسلمین حسینی عارف نے فیسٹیول کے بارے میں مختصر وضاحت کی۔بعد از آں اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے حاضرین کو خوش آمدید کہتے ہوئے اس فیسٹیول کے انعقاد کے مقاصد کی طرف اشارہ کیا۔حجۃ الاسلام و المسلمین اختری نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ حالیہ سالوں میں مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ثقافتی یلغار نے شدت اختیار کر لی ہے کہا: اس یلغار کے موجب صہپیونی ہیں کہ جن کا مقصد دو چیزوں کا نشانہ بنانا ہے: ایک ذات گرامی پیغمبر اسلام(ص) جو بانی اسلام ہیں اور دوسری قرآن کریم جو اسلام کا دستور العمل ہے۔انہوں نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ دشمنوں کے یہ حملات اسلام اور اسلامی جمہوریہ ایران کی پیشرفت کے بعد شدت پکڑ گئے ہیں کہا: ہمارا فریضہ ہے کہ ہم اسلام کے خلاف ان سازشوں کا سد باب کریں اور انہیں روکنے کے لیے کوئی مثبت قدم اٹھائیں۔اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے اس چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اسلام کی نسبت مغرب کی طرف سے کی جانے والے اہانتوں کا ایک سبب مغربیوں کی پیغمبر اسلام(ص) کے بارے میں ناآشنائی ہے کہا: دنیا کے پانچ ارب لوگ اسلام، پیغمبر اسلام(ص) اور قرآن کریم کے بارے میں درست آگاہی نہیں رکھتے۔حجۃ الاسلام و المسلمین اختری نے کہا: پیغمبر اکرم(ص) کی ۶۳ سالہ حیات طیبہ میں سے صرف ۵ سال کا عرصہ جنگ و جدال میں گزرا جبکہ آپ کی زندگی کے ۵۰ سال محبت، احسان، سماجی خدمات، یتیم نوازی، خدمت خلق جیسے عظیم اخلاقی فضائل اور انسانی اقدار کا مجموعہ ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم میں ۲۰۰۰ سے زیادہ آیتیں دوستی، رفاقت، انسانیت کا احترام، والدین کا احترام، خدا کے ساتھ رابطہ، خدمت خلق، ماحولیات کی حفاظت، سماجی قوانین، اخلاق، دوسروں کے ساتھ اچھا برتاو وغیرہ کے سلسلے میں ہیں اور بہت کم آیتیں جنگ کے بارے میں بیان ہوئیں ہیں اور وہ بھی نہ ابتدائی جنگ بلکہ دفاع کرنے پر تاکید کرتی ہیں۔ لیکن دشمنان اسلام اور صہیونی لابی صرف ان انگشت شمار آیتوں کو عنوان بنا کر اسلام اور رسول اسلام(ص) کے خلاف تبلیغ کرتے ہیں۔اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ عصر حاضر میں تبلیغی میدان میں سب سے زیادہ جو چیز موثر ثابت ہو رہی ہے وہ فلم ہے کہا: ہمارے پاس اللہ کی دی ہوئی صلاحتیں بہت زیادہ ہیں ہمیں انہیں بروئے کار لانا چاہیے اور اپنے دین اور آئین کا دفاع کرنے کے لیے موجودہ ہر وسیلے سے استفادہ کرنا چاہیے۔ دین کا دفاع کرنے کا ایک بہترین راستہ یہ ہے کہ ہم پیغمبر اکرم(ص) کی شخصیت کو فلمی وسائل کے ذریعے دنیا میں پہچنوائیں۔اس نشست میں موجود تمام فنکاروں اور فلم سازوں نے بھی اپنے اپنے نظریات اور خیالات پیش کئے اور اہلبیت(ع) عالمی اسمبلی کے اس عظیم اقدام کو سراہتے ہوئے اس کے ساتھ بھر پور تعاون کرنے کا وعدہ کیا۔واضح رہے کہ اہلبیت (ع) عالمی اسمبلی نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات والا صفات کے خلاف عالمی سطح پر ہونے والے پروپیگنڈوں اور دشمنوں کی جانب سے فن و ثقافت کے حربوں کے استعمال کے پیش نظر، پہلے فیسٹیول میں، سرکاری اور عوامی تنظیموں کے تعاون سے شارٹ فلم اور تالیف کتاب یا ترجمہ جیسے دو شعبوں میں ’’جایزہ بزرگ پیامبر اعظم (ص)‘‘ کے عنوان سے مقابلوں کا انعقاد کیا ہے جس کا موضوع، پیغمبر رحمت و انصاف حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے۔







